حدیث نمبر: 9617
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالُوا إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ وَلَسْنَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ إِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ وَنَأْمُرُ بِهِ أَوْ نَدْعُو مَنْ وَرَاءَنَا فَقَالَ ((آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ اعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا فَهَذَا لَيْسَ مِنَ الْأَرْبَعِ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَصُومُوا رَمَضَانَ وَأَعْطُوا مِنَ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ)) قَالُوا وَمَا عِلْمُكَ بِالنَّقِيرِ قَالَ ((جِذْعٌ يُنْقَرُ ثُمَّ يُلْقَوْنَ فِيهِ الْقُطَيْعَاءَ أَوِ التَّمْرَ وَالْمَاءَ حَتَّى إِذَا سَكَنَ غَلَيَانُهُ شَرِبْتُمُوهُ حَتَّى إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَضْرِبُ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ)) وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ مِنْ ذَلِكَ فَجَعَلْتُ أُخَبِّئُهَا حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَشْرَبَ قَالَ ((فِي الْأَسْقِيَةِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا)) قَالَ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ كَثِيرَةُ الْجُرْذَانِ لَا تَبْقَى فِيهَا أَسْقِيَةُ الْأَدَمِ قَالَ ((وَإِنْ أَكَلَتْهُ الْجُرْذَانُ)) مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَقَالَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ ((إِنَّ فِيكَ خُلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب عبدالقیس کا وفد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا توکہا: ربیعہ قبیلے سے ہمارا تعلق ہے، آپ کے اور ہمارے مابین مضر قبیلے کے کفار حائل ہیں، ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینے میں آ سکتے ہیں، لہٰذا آپ ہمیں کوئی (ایسا جامع) حکم دیں کہ اگر ہم اس پر عمل کریں تو جنت میں داخل ہو جائیں اور ہم اپنے پچھلے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمھیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، یہ چار امور میں سے نہیں ہے، اورنماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمتوں کا پانچواں حصہ ادا کرو اور میں تمھیں کدو کے برتن، لکڑی سے بنائے ہوئے برتن، تارکول ملے ہوئے برتن اور ہرے رنگ کے گھڑے سے منع کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا: نَقِیْر کے بارے آپ کیا جانتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تنے کو کھود کر یہ برتن بنایا جاتا ہے، پھر لوگ اس میں شہریز کھجوریں یا عام کھجوریں اور پانی ڈالتے ہیں، جب اس کے جوش میں ٹھیراؤ پیدا ہوتا ہے تو پھر تم پیتے ہو (اور نشہ چڑھتا ہے کہ تم میں سے ایک آدمی اپنے چچا زاد بھائی کو تلوار کے ساتھ قتل کر دیتاہے۔ ان لوگوں میں ایک آدمی ایسا تھا، جو اسی وجہ سے زخمی ہوا تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شرماتے ہوئے اس کو چھپانے لگ گیا۔ ان لوگوں نے کہا: تو پھر آپ ہمیں کن برتنوںمیں پینے کا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان مشکیزوں میں، جن کے منہوں کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا: ہمارے علاقے میں چوہے بہت زیادہ ہیں، اس وجہ سے چمڑے کا تو کوئی مشکیزہ بچتا ہی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس کو چوہے کھا جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات دو تین بار ارشاد فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبد القیس کے ایک فرد سیدنا اشج (منذر بن عائذ) رضی اللہ عنہ آدمی سے کہا: تجھ میں دو خصلتیں ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو پسند کرتا ہے، ایک عقل اور بردباری اور دوسری وقار و تمکنت اور جلدی نہ کرنا۔

وضاحت:
فوائد: … شہریز کھجورکی ایک قسم ہے، اس کے دانے کا سائز چھوٹا ہوتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کے حصول کی خاطر آنے والے عبد القیس کے وفد کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اپنی رسالت کی گواہی دینے کی تعلیم دی۔
جب شراب حرام ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عارضی طور پر ان چار قسم کے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا، بعد میں ان کے استعمال کی اجازت دے دی تھی۔ جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنِّی کُنْتُ نَھَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ، فَزُوْرُوْھَا، فَإِنَّھَا تُذَکِّرُکُمُ الآخِرَۃَ، وَنَھَیْتُکُمْ عَنِ الْأَوْعِیَۃِ فَاشْرَبُوْا فِیْھَا، وَاجْتَنِبُوْا کُلَّ مُسْکِرٍ۔)) … یعنی: بلاشبہ میں نے تم لوگوں کوقبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، لیکن (اب حکم دیتا ہوں کہ) ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہیہآخرتیاد دلاتی ہیں اور میں نے تم کو (کچھ) برتنوں سے منع کیا تھا، لیکن (اب حکم دیتا ہوں کہ) ان کو مشروبات کے لئے استعمال کیا کرو اور نشہ دینے والی ہر چیز سے اجتناب کرو … (صحیحہ:۸۸۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9617
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 18، 1996 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11175 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11193»