الفتح الربانی
بيان آداب المجالس— مجالس اور ان کے آداب کا بیان
بَابُ هَلِ الْأَفْضَلُ الْعَزَلَةُ عَنِ النَّاسِ أَوِ الْاخْتَلَاطُ بِهَمْ؟ باب: اس چیز کا بیان کہ لوگوں سے علیحدگی بہتر ہے یا ان میں گھل مل کر رہنا؟
حدیث نمبر: 9522
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ (وَفِي رِوَايَةٍ) خَيْرٌ مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مومن لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی تکالیف پر صبر کرتا ہے، وہ اس سے بہتر ہے جو نہ تو لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور نہ ہی ان کی اذیتوں پر صبر کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کسی آدمی میں صبر و برداشت کی صفت موجود ہو، تو خلوت میں رہنے کی بجائے، لوگوں میں رہنا اس کے لیے زیادہ مفید ہوتا ہے، کیونکہ کسی کی اذیت کے عوض اس کو دعا دینایا اس پر صبر کرنا، غصہ دلانے والے کو معاف کرنا، بیماروں کی بیمار پرسی کرنا، کسی مریض کا علاج کروانا، اجنبی کی رہنمائی کرنا، مہمان کی ضیافت کرنا، ایسے سینکڑوں عظیم امور ہیں، جن پر عمل کرنے کا موقع صرف لوگوں میں رہ کر ہی ملتا ہے۔ لیکنیاد رہے کہ اگر کسی معاشرے میں سرِ عام برائیوں کا ارتکاب کیا جاتا ہو اور کوشش کے باوجود ان سے اجتناب کرنا ناممکن ہو، تو حسب ِ استطاعت ایسے لوگوں سے کنارہ کشی کی جائے۔ اس کی ایک مثال ہمارے بازار ہیں، جہاں موسیقی اور گانوں کی آواز عام ہوتی ہے، بے پردہ، بلکہ نیم برہنہ عورتوں کی آمد و رفت عام ہوتی ہے، جن پر نظر پڑنا تو کجا، تنگ مقامات پر ان کا مردوں کے ساتھ شدید اختلاط ہو جاتا ہے اور ان کے جسم ایک دوسرے کے ساتھ مس ہونے لگتے ہیں، بالخصوص جب درندہ صفت نوجوان بھی پھر رہے ہوں، ایسے بازاروں میں جانا شرّ میں گھسنے کے مترادف ہے۔