حدیث نمبر: 9520
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا أَوْ صَلَّى تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ عَنِ الْكَلِمَاتِ فَقَالَ إِنْ تَكَلَّمَ بِخَيْرٍ كَانَ طَابِعًا عَلَيْهِنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنْ تَكَلَّمَ بِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَفَّارَةً سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتےیا نماز ادا کرتے تو کچھ دعائیہ کلمات کہتے تھے، سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کلمات کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر آدمی خیر والی باتیں کرے گا تو یہ کلمات روزِ قیامت تک ان پر مہر ہوں گے اور اگر خیر کے علاوہ کوئی اور بات کرے گا تو یہ کلمات اس کے لیے کفارہ بن جائیں گے، کلمات یہ ہیں: سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ (تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ، نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگرتو ہی، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں)۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں کفارۂ مجلس والی دعا پڑھنے کی اہمیت اور فوائد بیان کیے گئے ہیں، ہر مجلس کے بعد یہ دعا پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان آداب المجالس / حدیث: 9520
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 3/ 71 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24486 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24991»