حدیث نمبر: 9512
عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسٌ هَكَذَا وَقَدْ وَضَعْتُ يَدِي الْيُسْرَى خَلْفَ ظَهْرِي وَاتَّكَأْتُ عَلَى أَلْيَةِ يَدِي فَقَالَ أَتَقْعُدُ قِعْدَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا شرید بن سوید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے، جبکہ میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے پیٹھ کے پیچھے رکھا ہوا تھا اور میں نے اپنے ہاتھ کے نرم حصے پر ٹیک لگائی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تو ان لوگوں کی طرح بیٹھک بیٹھتا ہے، جن پر غضب کیا گیا۔

وضاحت:
فوائد: … کمر کے پیچھے زمین پر ہاتھ کی ٹیک لگا کر بیٹھنا مکروہ ہے۔
جن لوگوں پر غضب ہوا، ان سے مراد عام کافر اور فاجر ہیں، جو اپنی اٹھک بیٹھک اور چلن پھرن میں تکبر اور عجب پسندی کو اختیار کرتے ہیں، سورۂ فاتحہ میں {اَلْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ} سے مراد یہودی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان آداب المجالس / حدیث: 9512
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4848 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19683»