الفتح الربانی
بيان آداب المجالس— مجالس اور ان کے آداب کا بیان
بَابُ آدَابِ تَخْتَصُّ بِمَنْ فِي الْمَجْلِسِ باب: مجلس میں موجود لوگوں کے ساتھ خاص آداب
حدیث نمبر: 9511
عَنْ حَرْمَلَةَ الْعَنْبَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَإِذَا كُنْتَ فِي مَجْلِسٍ فَقُمْتَ مِنْهُ فَسَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ مَا يُعْجِبُكَ فَأْتِهِ وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ مَا تَكْرَهُ فَاتْرُكْهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حرملہ عنبری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وصیت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈر اور جب تو کسی مجلس میں بیٹھا ہوا ہو اور پھر ا س سے اٹھنے لگے، لیکن جب تو سنے کہ وہ ایسی باتیں کر رہے ہیں جو تجھے پسند ہیں تو ان کے ساتھ بیٹھا رہ، اور جب تو ان کو ایسی باتیں کرتے ہوئے سنے، جو تجھے ناپسند ہوں تو اس مجلس کو چھوڑ دے۔
وضاحت:
فوائد: … خیر والی مجلس سے بلا عذر نہیں اٹھنا چاہیے تاکہ آدمی اس مجلس میں بیٹھے رہنے کے اجر و ثواب سے محروم نہ ہو، بیان کرنے والے اور شرکت کرنے والوں کی حوصلہ شکنی نہ ہو اور دوسرے لوگوں میں بھی اٹھ جانے کی ترغیب پیدا نہ ہو۔ شرّ والی مجلس میں نہ بیٹھنے کا حکم تو واضح ہے۔