الفتح الربانی
بيان آداب المجالس— مجالس اور ان کے آداب کا بیان
بَابُ آدَابِ تَخْتَصُّ بِالْقَادِمِ عَلَى الْمَجْلِسِ باب: مجلس میں آنے والے کے مخصوص آداب کا بیان
حدیث نمبر: 9499
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دُعِيَ إِلَى شَهَادَةٍ مَرَّةً فَجَاءَ إِلَى الْبَيْتِ فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ فَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِهِ أَنْ يَجْلِسَ فِيهِ وَعَنْ أَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَا يَمْلِكُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ان کو گواہی کے لیے بلایا گیا، پس وہ گھر آئے اور ایک آدمی ان کی خاطر اپنی مجلس سے کھڑا ہو گیا، لیکن انھوں نے کہا: جب کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کی خاطر اپنی مجلس سے کھڑا ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو اس کی جگہ میں بیٹھ جانے سے منع کیا اور اس سے بھی منع فرمایا کہ آدمی ایسے شخص کے کپڑے سے ہاتھ صاف کرے، جس کا وہ مالک نہ ہو۔