الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الْحَياءِ وَإِنَّهُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْر باب: شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ فَقَالَ بُشَيْرٌ فَقُلْتُ إِنَّ مِنْهُ ضَعْفًا وَإِنَّ مِنْهُ عَجْزًا فَقَالَ أَحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَجِيئُنِي بِالْمُعَارِضِ لَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ مَا عَرَفْتُكَ فَقَالُوا يَا أَبَا نُجَيْدٍ إِنَّهُ طَيِّبُ الْهَوَى وَإِنَّهُ وَإِنَّهُ فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى سَكَنَ وَحَدَّثَ۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حیا سارے کا سارا خیر و بھلائی ہی ہے۔ بُشَیر نے کہا: حیا کی بعض صورتوں میں کمزوری اور بعض میں عاجزی ہوتی ہے، لیکن انھوں نے کہا: میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتا ہوں اور تم احادیث کی مخالف چیزیں پیش کرتے ہو، آئندہ میں جب تک تجھے پہچانتا رہوں گا، ایک حدیث بھی بیان نہیں کروں گا، لیکن لوگوں نے کہا: یہ اچھی طبیعت کا آدمی ہے اور اس میں فلاں فلاں خوبی بھی ہے، بہرحال لوگ اس کی صفات شمار کرتے رہے، یہاں تک کہ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ سکون میں آگئے اور احادیث بیان کرنے لگے۔
(بخاری:۶۱۱۷، مسلم: ۳۷)
معلوم ہوا کہ شریعت پر عمل پیرا ہونے کو حیا کہتے ہیں، لہٰذا مسلمان کو مجسمۂ حیا ہو نا چاہئے، وہ اپنے تہذیب وتمدن، کلچر و ثقافت، چلن پھرن، اٹھک بیٹھک، نقل و حرکت، بول چال، خورد ونوش، میل ملاپ، دوستی و دشمنی، خوشی وغمی، غرضیکہ تمام معاملات میں شرم و حیا کا پیکر بن کر سامنے آئے۔
حیا، حسنِ اخلاق کا اتنا اہم پہلو ہے کہ پہلی شریعتوں میں بھی اس کو بحال رکھا گیا۔
سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((آخِرُمَا أدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَامِ النُّبُوَّۃِ الأوْلٰی: إذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَاصْنَعْ مَاشِئْتَ۔)) (صحیحہ:۶۸۴) … پہلی نبوت کے کلام سے لوگوں کو آخری بات یہ ملی ہے کہ جب تجھے حیا نہ رہے تو جو چاہے کرتا پھرے۔
شریعت مطہرہ میں جس حیا کی تعریف کی گئی ہے، حافظ ابن حجر نے اس کی توضیحیوں کی ہے: وَفِیْ الشَّرْعِ: خُلُقٌ یَبْعَثُ عَلٰی اجْتِنَابِ الْقَبِیْحِ وَیَمْنَعُ مِنَ التَّقْصِیْرِ فِیْ حَقِّ ذِیْ الْحَقِّ۔ (فتح الباری: ۱/۷۲) …
شریعت میں (حیا سے مراد)وہ خصلت ہے جو قبیح چیز سے اجتناب کرنے اور کسی حقدار کے حق میں کمی کرنے سے باز رہنے پر آمادہ کرے۔
اس مفہوم میں حیا ایسی عظیم صفت ہے، جو منکرات و سیئات سے پرہیز کرنے اور تزکیہ نفس میں مؤمن کی سب سے بڑی معاون ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کی پاسداری کرنے پر ابھارتی ہے اور ان میںکسی قسم کی کم و کاست کرنے سے روکتی ہے۔
مذکورہ حدیث میں … مِنْ کَلَامِ النُّبُوَّۃِ الْاُوْلٰی سے مراد یہ ہے تمام انبیا و رسل کی شریعتوں میں شرعی حیا کی اہمیت بحال رہی۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں باحیا ہونے کی ترغیب دلائی گئی ہے، یعنی جب کوئی انسان حیائے شرعی کو ترک کر دیتا ہے تو وہ طبعی طور پر ایسے دہانے پر کھڑا ہو جاتاہے،جہاں ہر قسم کی برائی کا ارتکاب ممکن ہوتا ہے۔ اس حدیث پر اسلام کا مدار ہے، کیونکہیہ حیا ہی ہے کہ جس کی بنا پر مومن فرض اور مستحب کو ترک کرنے سے اور حرام اور مکروہ کا ارتکاب کرنے سے شرماتا ہے۔ نیزیہ بھی اشارہ ملتا ہے جو آدمی استطاعت کے باوجود کوئی نیکی کرنے یا کسی برائی سے باز آنے کے سلسلے میں لوگوں سے شرم محسوس کرتا ہے، تو اسے حیادار نہیں کہا جا سکتا، بلکہ وہ بزدل اور ضعیف الایمان ہے، جو شریعت کی روشنی میں بے حیا ہے۔