حدیث نمبر: 9221
عَنْ عَرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّهُ مَرَّ بِأُنَاسٍ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ قَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ بِالشَّامِ فَقَالَ مَا هَؤُلَاءِ قَالُوا بَقِيَ عَلَيْهِمْ شَيْءٌ مِنَ الْخَرَاجِ فَقَالَ إِنِّي أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعَذِّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ)) قَالَ وَأَمِيرُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ عُمَيْرُ بْنُ سَعْدٍ عَلَى فِلَسْطِينَ قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَحَدَّثَهُ فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ہشام حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ کچھ ایسے ذمّی لوگوں کے پاس سے گزرے، جن کو شام میں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا، انھوں نے کہا: انھوں نے کیا کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ان پر لاگو کیا گیا کچھ خراج باقی ہے، انھوں نے کہا:بیشک میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ان لوگوں کو عذاب دے گا جو آج لوگوں کو سزائیں دیتے ہیں۔ اس وقت فلسطین کے امیر عمیر بن سعد تھے، سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ اُن کے پاس گئے اور ان کو یہ حدیث بیان کی، پس انھوں نے ان کو چھوڑ دیا۔

وضاحت:
فوائد: … مذکورہ بالا احادیث ِ مبارکہ کا مفہوم انتہائی واضح ہے، مسلمان کو رحمدلی اور نرم دلی جیسی صفت سے متصف ہو کر اپنے معاملات کو ڈیل کرنا چاہیے، ہر طرح کی ظلم و زیادتی سے اجتناب کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9221
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2613 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15330 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15405»