الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الرَّحْمَةِ بِخَلْقِ اللَّهِ تَعَالَى وَثَوَاب فَاعِلِهَا وَوَعِيدِ مَنْ لَمْ يَرْحَمْ باب: اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی ترغیب اور ایسا کرنے والے کے ثواب¤اور مخلوق پر رحم نہ کرنے والے کی وعید کا بیان
عَنْ عَرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّهُ مَرَّ بِأُنَاسٍ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ قَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ بِالشَّامِ فَقَالَ مَا هَؤُلَاءِ قَالُوا بَقِيَ عَلَيْهِمْ شَيْءٌ مِنَ الْخَرَاجِ فَقَالَ إِنِّي أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعَذِّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ)) قَالَ وَأَمِيرُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ عُمَيْرُ بْنُ سَعْدٍ عَلَى فِلَسْطِينَ قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَحَدَّثَهُ فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ۔ سیدنا ہشام حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ کچھ ایسے ذمّی لوگوں کے پاس سے گزرے، جن کو شام میں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا، انھوں نے کہا: انھوں نے کیا کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ان پر لاگو کیا گیا کچھ خراج باقی ہے، انھوں نے کہا:بیشک میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ان لوگوں کو عذاب دے گا جو آج لوگوں کو سزائیں دیتے ہیں۔ اس وقت فلسطین کے امیر عمیر بن سعد تھے، سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ اُن کے پاس گئے اور ان کو یہ حدیث بیان کی، پس انھوں نے ان کو چھوڑ دیا۔