الفتح الربانی
مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها— اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الرَّحْمَةِ بِخَلْقِ اللَّهِ تَعَالَى وَثَوَاب فَاعِلِهَا وَوَعِيدِ مَنْ لَمْ يَرْحَمْ باب: اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی ترغیب اور ایسا کرنے والے کے ثواب¤اور مخلوق پر رحم نہ کرنے والے کی وعید کا بیان
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ كَانَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَعْثٍ بِأَرْمِينِيَّةَ قَالَ فَأَصَابَتْهُمْ مَخْمَصَةٌ أَوْ مَجَاعَةٌ قَالَ فَكَتَبَ جَرِيرٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَمْ يَرْحَمِ النَّاسَ لَا يَرْحَمُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأَتَاهُ فَقَالَ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَقْفَلَهُمْ وَمَتَّعَهُمْ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَكَانَ أَبِي فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ فَجَاءَ بِقَطِيفَةٍ مِمَّا مَتَّعَهُ مُعَاوِيَةُ۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: سیدنا جریر بن عبد اللہ بَجَلی رضی اللہ عنہ ارمینیہ کے مقام پر ایک لشکر میں موجود تھے، وہ لشکر بھوک میں مبتلا ہو گیا، سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو بلایا، پس جب وہ آئے تو انھوں نے کہا: کیا تم نے یہ حدیث واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس انھوں نے سازو سامان کے ساتھ ان کو واپس کیا۔ ابو اسحق کہتے ہیں: میرے باپ بھی اس لشکر میں تھے، وہ بھی اس سامان میں سے ایک چادر لائے تھے، جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھیجا تھا۔