حدیث نمبر: 9202
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيَادٍ عَنِ ابْنَيْ بُسْرٍ الْمُسْلِمَيْنِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ يَرْحَمُكُمَا اللَّهُ الرَّجُلُ مِنَّا يَرْكَبُ دَابَّتَهُ فَيَضْرِبُهَا بِالسَّوْطِ وَيَكْفَحُهَا بِاللِّجَامِ هَلْ سَمِعْتُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ قَالَا مَا سَمِعْنَا فِي ذَلِكَ شَيْئًا فَإِذَا امْرَأَةٌ قَدْ نَادَتْ مِنْ جَوْفِ الْبَيْتِ أَيُّهَا السَّائِلُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ} [الأنعام: 38] فَقَالَ هَذِهِ أُخْتُنَا وَهِيَ أَكْبَرُ مِنَّا وَقَدْ أَدْرَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبد اللہ بن زیاد کہتے ہیں: بسر کے دو مسلمان بیٹے تھے، میں ان کے پاس گیا اور کہا: اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، بات یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی سواری پر سوار ہوتا ہے اور اسے کوڑے سے مارتا بھی ہے اور لگام کے ذریعے کھینچتا بھی ہے، کیا تم نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے؟ انھوں نے کہا: ہم نے تو اس کے بارے میں کچھ نہیں سنا، لیکن پھر اچانک گھر کے اندر سے ایک عورت کی آواز آئی، اس نے کہا: سوال کرنے والے! اللہ تعالیٰ کہتا ہے: اور جتنے قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے قسم کے پرندے ہیں کہ اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتے ہیں،یہ سب تمہاری طرح کے گروہ ہیں، ہم نے دفتر میں کوئی چیز نہیں چھوڑی۔ (سورۂ انعام: ۳۸) پھر اس نے کہا: یہ ہماری بہن ہے، عمر میں ہم سے بڑی ہے اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9202
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17837»