حدیث نمبر: 9174
عَنِ ابْنِ حَصْبَةَ أَوْ أَبِي حَصْبَةَ عَنْ رَجُلٍ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ ((تَدْرُونَ مَا الصُّرَعَةُ)) قَالَ قَالُوا الْصَّرِيعُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ الرَّجُلُ يَغْضَبُ فَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ وَيَقْشَعِرُّ شَعْرُهُ فَيَصْرَعُ غَضَبَهُ وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ بڑا پہلوان کون ہے؟ انھوں نے کہا: پچھاڑنے والا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارے کا سارے پہلوان، بڑے سے بڑاپہلوان وہ آدمی ہے جسے غصہ آتا ہے، پھر اس کا غصہ سخت ہو جاتا ہے، چہرہ سرخ ہونے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے، اور بیشک آگ کو پانی کے ذریعے ہی بجھایا جاتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … لوگ جسمانی لحاظ سے تنومند اور طاقتور شخص کو پہلوان سمجھتے ہیں، لیکن شریعت ِ اسلامیہ کی روشنی میں اصل پہلوان وہ ہے جو غیظ و غضب کے وقت اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہے اور کوئی ایسا اقدام نہیں کرتا، جس پر اسے بعد میں ندامت ہو۔ جیسے عام لوگ غصے کی حالت میں شیطانی اور دیوانی جذبات سے سرشار ہو کر اپنا بہت زیادہ نقصان کر دیتے ہیں اور پھر ندامت کے آنسو بہانا شروع کر دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے پرہیز گار لوگوں کی صفت یہ بیان کی ہے کہ وہ غصہ پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، درج ذیل حدیث سے غصہ پی جانے کی اہمیت کو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9174
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، أخرجه البيھقي في الشعب : 3341 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23503»