حدیث نمبر: 8984
عَنْ شَيْبَةَ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ أَحْلِفُ عَلَيْهِنَّ لَا يَجْعَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ فَأَسْهُمُ الْإِسْلَامِ ثَلَاثَةٌ الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ وَالزَّكَاةُ وَلَا يَتَوَلَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا فَيُوَلِّيهِ غَيْرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَعَهُمْ وَالرَّابِعَةُ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهَا رَجَوْتُ أَنْ لَا آثَمَ لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِذَا سَمِعْتُمْ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ مِثْلِ عُرْوَةَ يَرْوِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاحْفَظُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ شیبہ حضرمی کہتے ہیں: ہم عمر بن عبد العزیز کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، عروہ بن زبیر نے ہم کو بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں پر میں قسم اٹھاتا ہوں، جس آدمی کا اسلام میں حصہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو اس آدمی کی طرح نہیں کرے گا، جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہوتا، وہ تین چیزیں یہ ہیں: (۱) اسلام کے تین حصے ہیں: نماز، روزہ اور زکوۃ، (۲) یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک آدمی سے محبت رکھے اور پھر قیامت کے دن اس کو کسی کے سپرد کر دے، (۳) بندہ جن لوگوں سے محبت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ان کے ساتھ ہی کر دے گا، اور اگر میں چوتھی چیز پر بھی قسم اٹھا لوں تو مجھے امید ہے کہ گنہگار نہیں ہوں گا اور وہ یہ ہے کہ جو آدمی دنیا میں کسی شخص پر پردہ ڈالے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس پر پردہ ڈالے گا۔ یہ حدیث سن کر عمر بن عبد العزیز نے کہا: جب تم ایسی حدیث سنو جس کو عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کر رہی ہوں تو اس کو یاد کر لیا کرو۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث ِ مبارکہ میںمختلف نیکیوں اور برائیوں کا ذکر ہوا ہے، قارئین الفاظ سے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود سمجھ سکتے ہیں، اس لیے زیادہ شرح نہیں کی گئی، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے فہم و عقل کی روشنی میں معمولی اور غیر معمولی حسنات و سیئات کا تعین نہ کریں، بلکہ شریعت کے تابع ہو کر زندگی گزاریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة / حدیث: 8984
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الحاكم: 1/ 19، وابويعلي: 4566 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25634»