الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ كَانَتْ فِي الْقُرْآنِ وَنُسِخَتْ باب: ان آیات کا ذکر، جو قرآن مجید میں موجود تھیں، لیکن بعد میں منسوخ ہو گئیں
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ كَانُوا يُسَمَّوْنَ الْقُرَّاءَ قَالَ سُفْيَانُ نَزَلَ فِيهِمْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرَضِيَ عَنَّا قِيلَ لِسُفْيَانَ فِيمَنْ نَزَلَتْ قَالَ فِي أَهْلِ بِئْرِ مَعُونَةَ ¤ (8460م) وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا إِنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے غمگین کبھی نہیں ہوئے جتنے غمگین آپ قراء کے لشکر پر ہوئے تھے، ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: {بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَ نَّا قَدْ رَضِینَا وَرَضِیَ عَنَّا} … ہماری قوم کو یہ پیغام دے دو کہ ہم اللہ پر راضی ہوگئے اور وہ ہم سے راضی ہو گیا، کسی نے سفیان سے کہا: یہ آیت کن کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟ انہوں نے کہا: بئرمعونہ والوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم قرآن مجید میں پڑھا کرتے تھے: {بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا} … ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو مل گئے ہیں، پس وہ ہم سے راضی بھی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو راضی بھی کیا ہے۔ پھر یہ آیات منسوخ ہو گئی تھیں۔