حدیث نمبر: 8460
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ كَانُوا يُسَمَّوْنَ الْقُرَّاءَ قَالَ سُفْيَانُ نَزَلَ فِيهِمْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرَضِيَ عَنَّا قِيلَ لِسُفْيَانَ فِيمَنْ نَزَلَتْ قَالَ فِي أَهْلِ بِئْرِ مَعُونَةَ ¤ (8460م) وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا إِنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے غمگین کبھی نہیں ہوئے جتنے غمگین آپ قراء کے لشکر پر ہوئے تھے، ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: {بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَ نَّا قَدْ رَضِینَا وَرَضِیَ عَنَّا} … ہماری قوم کو یہ پیغام دے دو کہ ہم اللہ پر راضی ہوگئے اور وہ ہم سے راضی ہو گیا، کسی نے سفیان سے کہا: یہ آیت کن کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟ انہوں نے کہا: بئرمعونہ والوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم قرآن مجید میں پڑھا کرتے تھے: {بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا} … ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو مل گئے ہیں، پس وہ ہم سے راضی بھی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو راضی بھی کیا ہے۔ پھر یہ آیات منسوخ ہو گئی تھیں۔

وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ پھر دوسرے صحابہ کی گواہی کی وجہ سے ان آیات کو قرآن مجید سے مٹا دیا گیا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8460
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12111»