حدیث نمبر: 806
عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ زِيَادَةُ وَكَانَتْ خَالَتَهُ) فَسَقَتْهُ قَدَحًا مِنْ سَوِيقٍ فَدَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ فَقَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ أُخْتِي! أَلَا تَتَوَضَّأُ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، أَوْ غَيَّرَتِ النَّارُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو سفیان بن سعید بن مغیرہ، زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہؓ کے پاس گئے، جو کہ ان کی خالَہُ تھیں، انھوں نے ان کو ستو کا پیالَہ پلایا، پھر انھوں نے پانی منگوا کر کلی کی، لیکن سیدہ نے کہا: اے بھانجے! کیا تم وضو نہیں کرو گے؟ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کو آگ پر پکایا جائے، اس سے وضو کیا کرو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 806
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «مرفوعه صحيح لغيره، وھذا اسناد محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 195، والنسائي: 1/ 107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27309»