حدیث نمبر: 7858
۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اُرَانِی فِی الْمَنَامِ عِنْدَ الْکَعْبَۃِ، فَرَأَیْتُ رَجُلًا آدَمَ کَأَحْسَنِ مَا تَرٰی مِنَ الرِّجَالِ، لَہُ لِمَّۃٌ قَدْ رُجِّلَتْ وَلِمَّتُہُ تَقْطُرُ مَائً، وَاضِعًا یَدَہُ عَلٰی عَوَاتِقِ رَجُلَیْنِ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ رَجِلَ الشَّعْرِ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ فَقَالُوْا: الْمَسِیحُ ابْنُ مَرْیَمَ، ثُمَّ رَأَیْتُ رَجُلًا جَعْدًا قَطَطًا أَعْوَرَ عَیْنِ الْیُمْنٰی، کَأَنَّ عَیْنَہُ عِنَبَۃٌ طَافِیَۃٌ کَأَشْبَہِ مَنْ رَأَیْتُ مِنِ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ، وَاضِعًا یَدَیْہِ عَلٰی عَوَاتِقِ رَجُلَیْنِ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ فَقَالُوْا: ہٰذَا الْمَسِیحُ الدَّجَّالُ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں کعبہ کے پاس ہوں، میں نے ایک گندمی رنگ کا بہت زیادہ حسین، جو ایک آدمی ہوسکتا ہے، دیکھا، اس کے بال کانوں تک تھے، کنگھی کی ہوئی تھی اور اس کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے وہ بیت اللہ کا طواف کررہا تھا اور اس کے بال لہردار تھے، میں نے کہا: یہ آدمی کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ مسیح ابن مریم علیہ السلام ہیں، پھر میں نے ایک اور آدمی دیکھا، اس کے بال سخت گھنگھریالے تھے، دائیں آنکھ سے کانا تھا، اس کی آنکھ ابھرے ہوئے انگور کی مانند تھی، یوں سمجھیں کہ لوگوں میں اس کی مشابہت ابن قطن سے پڑتی تھی، یہ بھی دو آدمیوں کے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا اور بیت اللہ کا طواف کررہا تھا، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ مسیح دجال ہے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مختلف خواب تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تعبیر بھی بیان کر دی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7858
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5902، 6999، ومسلم: 169 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6099 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»