حدیث نمبر: 7850
۔حَدَّثَنِی سَالِمٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رُؤْیَا رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ قَالَ: ((رَأَیْتُ النَّاسَ قَدْ اجْتَمَعُوا فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَیْنِ وَفِی نَزْعِہِ ضَعْفٌ وَاللّٰہُ یَغْفِرُ لَہُ ثُمَّ نَزَعَ عُمَرُ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَمَا رَأَیْتُ عَبْقَرِیًّا مِنَ النَّاسِ یَفْرِی فَرِیَّہُ حَتّٰی ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے متعلقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ لوگ جمع ہیں اور ابوبکر کھڑے ہوئے ایک یا دو ڈول کنوئیں سے پانی کے کھینچتے ہیں، ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے، پھر عمر نے ڈول کھینچا ہے، پس وہ بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کر گیا، میں نے لوگوں میں سے اتنا قوی کسی کو نہیں دیکھا، (انھوں نے اس قدر ڈول کھینچے کہ) لوگوں نے اپنے اونٹ بٹھا لیے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کی طرف اشارہ ہے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی کمزوری سے مراد ان کی مدت ِ خلافت کا مختصر ہونا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت دس برس سے بھی زیادہ تھی، انھوں نے اسلام اور مسلمانوں کی خوب خدمت کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7850
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3633، ومسلم: 2393، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4814 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»