الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِي اشْتِرَاطِ الطَّهَارَةِ قَبْلَ لُبْسِ الْخُفَّيْنِ باب: موزے پہننے سے پہلے باوضو ہونے کی شرط کا بیان
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ سَافَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَادِيًا فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَأَتَاهُ فَتَوَضَّأَ فَخَلَعَ خُفَّيْهِ فَتَوَضَّأَ فَلَمَّا فَرَغَ وَجَدَ رِيحًا بَعْدَ ذَلِكَ فَعَادَ فَخَرَجَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! نَسِيتَ لَمْ تَخْلَعِ الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ: ((كَلَّا، بَلْ أَنْتَ نَسِيتَ، بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ))سیدنا مغیرہؓ سے ہی مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک وادی میں داخل ہوئے، قضائے حاجت کی اور پھر باہر تشریف لے آئے اور میرے پاس آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور موزے اتار کر وضو کیا، لیکن جب فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (پیٹ میں) ہوا محسوس ہوئی، اس لیے دوبارہ لوٹ گئے پھر آپ تشریف لائے اور پھر وضو کیا، لیکن اس بار موزوں پر مسح کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ بھول گئے ہیں کہ موزے نہیں اتارے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہر گزنہیں، بلکہ تم بھول گئے ہو، مجھے اس طرح مسح کرنے کا تو میرے ربّ نے مجھے حکم دیا ہے۔