الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِي اللُّمَعَةِ وَالْمُوَالَاةِ وَالْحَثِّ عَلَى إِحْسَانِ الْوُضُوءِ باب: وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے¤اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 695
عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي وَفِي ظَهْرِ قَدَمِهِ لُمْعَةٌ قَدْرُ الدِّرْهَمِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
خالد بن معدان رحمہ اللہ ایک صحابی رسول سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جبکہ اس کے قدم کی پشت پر درہم کے بقدر جگہ خشک رہ گئی تھی، اس کو پانی نہیں پہنچا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ دوبارہ وضو کرے۔
وضاحت:
فوائد: … وضو میں موالاۃ ضروری ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اعضائے وضو کو لگاتار اور پے در پے دھویا جائے۔ اس کی مزید وضاحت اس طرح ہے کہ جب آدمی وضو سے فارغ ہو تو اس کے سارے اعضا گیلے ہونے چاہئیں، یہ درست نہیں ہے کہ بیچ میں اتنا وقفہ ڈال دیا جائے کہ جب آدمی پاؤں دھونے سے فارغ ہو تو اس کا چہرہ خشک ہو چکا ہو۔ مذکورہ بالا احادیث کی یہی فقہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ وضو کرنے کا حکم اس بنا پر دیا کہ متعلقہ صحابی کے اعضا خشک ہو چکے تھے۔ اگر بندے کو اس حال میں کسی عضو کے خشک رہ جانے کا پتہ چلے کہ سارے اعضائے وضو ابھی تک تر ہوں تو اس کو چاہیے کہ وہ فوراً خشک جگہ کو تر کر دے، ایسی صورت میں دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے، درج ذیل دو احادیث سے بھی اس اجتہاد کا استدلال کرنا ممکن ہے: (۱)غسل جنابت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غسل کے آخر میں پاؤں دھو کر وضو مکمل کرنا
اور (۲) ایک موقع پر بازو دھونے کے بعد کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا
پہلی حدیث کے مطابق غسل کا وقفہ کا پڑ جانے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف پاؤں دھوئے اور دوسری حدیث کے مطابق کلی اور ناک رہ گئے تھے، لیکن بازو دھونے کے بعد ان کو کر لیا گیا، دوسرے اعضا کو دوبارہ نہ دھونے کی وجہ یہ تھی کہ ابھی تک وہ گیلے تھے، یہ ایک اجتہادی رائے ہے، یہ دونوں احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔
اور (۲) ایک موقع پر بازو دھونے کے بعد کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا
پہلی حدیث کے مطابق غسل کا وقفہ کا پڑ جانے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف پاؤں دھوئے اور دوسری حدیث کے مطابق کلی اور ناک رہ گئے تھے، لیکن بازو دھونے کے بعد ان کو کر لیا گیا، دوسرے اعضا کو دوبارہ نہ دھونے کی وجہ یہ تھی کہ ابھی تک وہ گیلے تھے، یہ ایک اجتہادی رائے ہے، یہ دونوں احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔