الفتح الربانی
مسائل القضاء والشهادات— فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل
بَابُ مَنْ يَجُوزُ الْحُكْمُ بِشَهَادَتِهِ وَمَنْ لَا يَجُوزُ. باب: اس چیز کا بیان کہ کس کی شہادت پر حکم لگانا جائز ہے اور کس کی شہادت پر ناجائز
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ وَلَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ وَيَجُوزُ شَهَادَتُهُ لِغَيْرِهِمْ وَالْقَانِعُ الَّذِي يُنْفِقُ عَلَيْهِ أَهْلُ الْبَيْتِ وَفِي لَفْظٍ وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ الْخَادِمِ التَّابِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ خیانت کرنے والے مرد و زن کی شہادت جائز ہے اور نہ اس کی جس کے دل میں بھائی کے خلاف کینہ ہو، اسی طرح اس شخص کی شہادت بھی جائز نہیں ہے جو کسی خاندان کا خادم اور تابع ہو، ان کے علاوہ باقی سب افراد کی شہادت جائز ہو گی۔ اَلْقَانِع سے مراد وہ شخص ہے، جس پر گھر والے خرچ کرتے ہوں۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ فرد جو کسی گھر والوں کا خادم اور تابع ہو گھر والوں کے حق میں اس کی گواہی رد کی ہے اور باقی افراد کے حق میں جائز قرار دی ہے۔