حدیث نمبر: 6427
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ وَلَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ وَيَجُوزُ شَهَادَتُهُ لِغَيْرِهِمْ وَالْقَانِعُ الَّذِي يُنْفِقُ عَلَيْهِ أَهْلُ الْبَيْتِ وَفِي لَفْظٍ وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ الْخَادِمِ التَّابِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ خیانت کرنے والے مرد و زن کی شہادت جائز ہے اور نہ اس کی جس کے دل میں بھائی کے خلاف کینہ ہو، اسی طرح اس شخص کی شہادت بھی جائز نہیں ہے جو کسی خاندان کا خادم اور تابع ہو، ان کے علاوہ باقی سب افراد کی شہادت جائز ہو گی۔ اَلْقَانِع سے مراد وہ شخص ہے، جس پر گھر والے خرچ کرتے ہوں۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ فرد جو کسی گھر والوں کا خادم اور تابع ہو گھر والوں کے حق میں اس کی گواہی رد کی ہے اور باقی افراد کے حق میں جائز قرار دی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … خائن کا معاملہ واضح ہے، کینہ سے مراد وہ افراد ہیں کہ جن کے درمیان بظاہر دشمنی والا معاملہ ہو، زیادہ تر ایسے ہوتا ہے کہ کسی خاندان کا خادم اور تابع اس خاندان کے بارے میں عدل و انصاف کا ترازو قائم نہیں رکھ سکتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل القضاء والشهادات / حدیث: 6427
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3600، 3601، ابن ماجه: 2366 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6899 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6899»