الفتح الربانی
مسائل القضاء والشهادات— فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل
بَابُ الْقَضَاءِ بِالْقُرْعَةِ فِيمَا إِذَا إِذْهَا الْخَصْمَانِ مِلْكَ شَيْءٍ وَلَمْ يَكُن لَهُمَا بَينَةٌ وَمَا ذَا يَفْعَلُ إِذَا كَانَ لَهُمَا بينةٌ وَتَعَارَضَتِ البَيِّنَاتُ باب: جب فریقین کسی چیز کی ملکیت کا دعوی کریں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو قرعہ کے ذریعے فیصلہ کرنے کابیان، اسی طرح اس چیز کی وضاحت کہ اگر دونوں کے پاس گواہ تو ہوں، لیکن متعارض ہوں
حدیث نمبر: 6424
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي دَابَّةٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی ایک چوپائے کا مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی دلیل نہ تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سواری کو ان کے درمیان نصف تقسیم کر دیا۔