الفتح الربانی
مسائل القضاء والشهادات— فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل
أَبْوَابُ الدَّعَاوِي وَالْبَيِّنَاتِ وَصُورَةِ الْيَمِينِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: دعووں، گواہیوں اور قسم کی صورتوں وغیرہ کے ابواب مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مُدَّعِی کے پاس گواہ نہ ہو تو مُدّعٰی علیہ سے قسم لینے کا بیان
عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: خَاصَمْتُ ابْنَ عَمٍّ لِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بِئْرٍ كَانَتْ لِي فِي يَدِهِ، فَجَحَدَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بَيِّنَتُكَ أَنَّهَا بِئْرُكَ وَإِلَّا فَيَمِينُهُ))، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا لِي بَيِّنَةٌ، إِنْ تَجْعَلْهَا بِيَمِينِهِ تَذْهَبْ بِئْرِي، إِنَّ خَصْمِي امْرُؤٌ فَاجِرٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ))، وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ} (آل عمران: 77) الآية۔ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرا ایک کنویں تھا اور اس کے معاملے میں میرا اپنے چچا زاد بھائی سے جھگڑا تھا، اس نے یہ کنواں مجھے واپس کرنے سے انکار کر دیا تھا، میں یہ مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: دلیل لاؤ کہ یہ کنواں تمہارا ہے، وگرنہ وہ قسم اٹھا لے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس دلیل تو نہیں ہے اور میرا مقابل فاجر اور فاسق آدمی ہے،اس لیے اگرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا تو وہ میرا کنواں ہتھیا لے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کا مال نا حق ہتھیائے گا وہ اس حال میں اللہ تعالی سے ملاقات کرے گا کہ وہ اس سے ناراض ہو گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِکَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِیْ الآخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔} … بے شک جو لوگ اللہ تعالی کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے، اللہ تعالی نہ تو ان سے بات چیت کرے گا نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔