الفتح الربانی
مسائل القضاء والشهادات— فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل
بَابُ إِثْمِ مَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَإِنْ حُكِمَ لَهُ بِهِ فِي الظَّاهِرِ وَهَلْ يَحْكُمُ الْقَاضِي بِعِلْمِهِ أَمْ لَا باب: باطل چیز پر جھگڑنے والے کے گناہ کا بیان، اگرچہ بظاہر اس کے لیے فیصلہ کر دیا گیا ہو¤اور اس چیز کا بیان کہ کیا قاضی اپنے علم کی روشنی میں فیصلہ کر سکتا ہے یا نہیں
حدیث نمبر: 6414
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو علم ہونے کے باوجود ناحق جھگڑا کرے تو وہ اس سے دستبردارہونے تک اللہ تعالی کی ناراضگی میں ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … ہمارے ہاں خاندانی اور مذہبی تعصب کی بنا پر ایسی مثالیں موجود ہیں کہ لوگ ظالم کا ساتھ دینے پر تل جاتے ہیں اور عدالتوں اور کچہریوں میں جا کراس کے حق میں جھوٹی گواہیاں دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔