الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
الْفَصْلُ الثَّانِي فِيمَا رُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی بن ابو طالبؓ سے مروی حدیث کا بیان
عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ خَطِيبًا فِي الرَّحْبَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَتَمَضْمَضَ مِنْهُ وَتَمَسَّحَ وَشَرِبَ فَضْلَ كُوزِهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ: طُهُورِهِ) وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ الرَّجُلَ مِنْكُمْ يَكْرَهُ أَنْ يَشْرَبَ وَهُوَ قَائِمٍ وَهَذَا وَضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَكَذَاربعی بن حراش رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رحبہ میں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد کچھ باتیں کیں، پھر پانی کا ایک برتن منگوایا اور اس سے کلی کی اور (چہرے، بازوؤں، سر اور پاؤں پر) ہاتھ پھیرا اور برتن کا (ایک روایت کے مطابق وضو کا) بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پی لیا اور پھر کہا: ”مجھے یہ بات موصول ہوئی ہے کہ تم میں سے ایک آدمی کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند کرتا ہے، یہ اس کا وضو ہے، جو بے وضو نہیں ہوا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔“