حدیث نمبر: 624
عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ خَطِيبًا فِي الرَّحْبَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَتَمَضْمَضَ مِنْهُ وَتَمَسَّحَ وَشَرِبَ فَضْلَ كُوزِهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ: طُهُورِهِ) وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ الرَّجُلَ مِنْكُمْ يَكْرَهُ أَنْ يَشْرَبَ وَهُوَ قَائِمٍ وَهَذَا وَضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ربعی بن حراش رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رحبہ میں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد کچھ باتیں کیں، پھر پانی کا ایک برتن منگوایا اور اس سے کلی کی اور (چہرے، بازوؤں، سر اور پاؤں پر) ہاتھ پھیرا اور برتن کا (ایک روایت کے مطابق وضو کا) بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پی لیا اور پھر کہا: ”مجھے یہ بات موصول ہوئی ہے کہ تم میں سے ایک آدمی کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند کرتا ہے، یہ اس کا وضو ہے، جو بے وضو نہیں ہوا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 624
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 797 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 797»