حدیث نمبر: 6048
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَظَلَّ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ تَرَكَ لِغَارِمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو اپنے سائے میں جگہ دے گا کہ جس دن کوئی اور سایہ نہیں ہوگا، جو آدمی تنگدست کو مہلت دے گا یا چٹی بھرنے والے کو معاف کر دے گا۔

وضاحت:
فوائد: … لیکن اس باب میں احادیث ِ صحیحہ کا وجود ملتا ہے، مثلا: سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَنْظَرَ مُعْسِرًا اَوْ وَضَعَ عَنْہُ، اَظَلَّہُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہٖ۔)) … ’’جوشخصکسی تنگدست کو مہلت دے گا یا اس کو معاف کر دے گا، اللہ تعالی اس کو اپنے سائے میں جگہ دیں گے۔‘‘ (صحیح مسلم: ۳۰۰۶، واللفظ لابن حبان)
اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَنْظَرَ مُعْسِرًا اَوْ وَضَعَ لَہٗ،اَظَلَّہُاللّٰہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِہٖیَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہٗ۔)) … ’’جسشخصنےتنگدستکومہلتدییا اس کو سرے سے معاف کر دیا تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جبکہ اس دن کوئی اور سایہ نہیں ہو گا۔‘‘
یہ کتنی بڑی سعادت ہے کہ تنگدست کو مہلت دینےیا اس کو معاف کر دینے کی وجہ سے حشر کے میدان میں اللہ تعالی کا سایہ نصیب ہو جائے، جبکہ اس میدان میں گرمی بھی آگ برس رہی ہو گی اور سورج ایک میل کے فاصلے پر ہو گا۔
ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلیٰ مَیْسَرَۃٍ وَاَنْ تَصَدَّقُوْاخَیْرٌلَّکُمْ اِنْ کُنْْتُمْ تَعْلَمُوْنَ} … ’’اور اگر تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہئے اور صدقہ کرو تو تمہارے لیے بہت بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘ (سورۂ بقرہ:۲۸۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلم كتاب القرض والدين / حدیث: 6048
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، العباس بن الفضل الانصاري منكر الحديث، قاله البخاري، هشام بن زياد القرشي متروك الحديث، وابوه لينه البخاري، ومحجن مولي عثمان لم يوثقه غير ابن حبان ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 532»