الفتح الربانی
كتاب السلم كتاب القرض والدين— کتاب سلم
بَابُ مَا يَجُوزُ بَيْعُهُ فِي الدَّيْنِ وَاسْتِحْبَابِ وَضْعِ بَعْضِ الدِّينِ عَنِ الْمُعْسِرِ باب: ادھار کی وجہ سے کسی چیز کو فروخت کرنے اور تنگدست سے کچھ قرضہ معاف کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ فَنَادَى يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ الشَّطْرَ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُمْ فَاقْضِهِ۔ عبد اللہ بن کعب سے مروی ہے کہ ان کے باپ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے قرض کا مطالبہ کیا،یہ عہد ِ نبوی کی بات ہے، اس سلسلے میں ان کی آوازیں اتنی بلند ہوئیں، جبکہ وہ مسجد میں تھے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سن لیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں تشریف فرماتھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف آئے اور اپنے حجرہ کا پردہ ہٹایا اور یوں آواز دی: اے کعب بن مالک! انھوں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ آدھا قرضہ معاف کر دو، انھوں نے کہا: جی میں نے کردیا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اٹھو اور باقی قرض اداکردو۔
معلوم ہوا کہ امیر اور ذمہ دار قرض خواہ کو کہہ سکتا ہے کہ قرضہ کچھ معاف کر دو۔ قرض خواہ کو بھی امیر کی بات کا لحاظ کرکے شرح صدر کا ثبوت دیتے ہوئے بات کی تعمیل کرنی چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)