حدیث نمبر: 6039
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ فَنَادَى يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ الشَّطْرَ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُمْ فَاقْضِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبد اللہ بن کعب سے مروی ہے کہ ان کے باپ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے قرض کا مطالبہ کیا،یہ عہد ِ نبوی کی بات ہے، اس سلسلے میں ان کی آوازیں اتنی بلند ہوئیں، جبکہ وہ مسجد میں تھے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سن لیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں تشریف فرماتھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف آئے اور اپنے حجرہ کا پردہ ہٹایا اور یوں آواز دی: اے کعب بن مالک! انھوں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ آدھا قرضہ معاف کر دو، انھوں نے کہا: جی میں نے کردیا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اٹھو اور باقی قرض اداکردو۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض خواہ کو حکم دیا کہ وہ آدھا قرض معاف کر دے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحم دلی کا ثبوت ہے۔
معلوم ہوا کہ امیر اور ذمہ دار قرض خواہ کو کہہ سکتا ہے کہ قرضہ کچھ معاف کر دو۔ قرض خواہ کو بھی امیر کی بات کا لحاظ کرکے شرح صدر کا ثبوت دیتے ہوئے بات کی تعمیل کرنی چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلم كتاب القرض والدين / حدیث: 6039
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1558، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27177 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27719»