حدیث نمبر: 6034
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ فَسَأَلَ هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ قَالُوا نَعَمْ دِينَارَانِ قَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ قَالَ أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے، ایک دفعہ آپ کے پاس ایک میت لائی گئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا اس پر قرض ہے ۔ لوگوں نے کہا: جی ہاں، یہ دو دینار کامقروض ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم خود ہی اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ اتنے میں سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسو ل! وہ میرے ذمہ ہیں، تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، جب اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرفتوحات کے دروازے کھولے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ہر مؤمن کے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں، اس لیے اب جو قرض چھوڑ کر مرے گا، اس کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی اورجو مال چھوڑ کر مرے گا، وہ اس کے ورثاء کاہوگا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلم كتاب القرض والدين / حدیث: 6034
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 3343، والنسائي: 4/ 65 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14206»