الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ باب: وضو اور اس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کی فضیلت
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: إِذَا وَضَعْتَ الطَّهُورَ مَوَاضِعَهُ قَعَدْتَّ مَغْفُورًا لَكَ، فَإِنْ قَامَ يُصَلِّي كَانَتْ لَهُ فَضِيلَةً وَأَجْرًا، وَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ مَغْفُورًا لَهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا أُمَامَةَ! أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَ فَصَلَّى تَكُونُ لَهُ نَافِلَةً؟ قَالَ: لَا، إِنَّمَا النَّافِلَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ تَكُونُ لَهُ نَافِلَةً وَهُوَ يَسْعَى فِي الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، تَكُونُ لَهُ فَضِيلَةً وَأَجْرًاسیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ”جب تو وضو کے پانی کو اس کے مقام پر استعمال کرے گا تو بخشا بخشایا بیٹھ جائے گا، پھر اگر کوئی آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اس میں اس کے لیے فضیلت اور اجر و ثواب ہوتا ہے۔“ ایک آدمی نے ان سے کہا: ”اے ابو امامہ! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر ایسا آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے، تو اس کی نماز زائد ہو گی؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں، یہ زائد ہونا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا۔ عام بندے کے لیے یہ نماز فضیلت اور اجر کا باعث ہو گی۔“