الفتح الربانی
كتاب السلم كتاب القرض والدين— کتاب سلم
بَابُ التَّشْدِيدِ عَلَى الْمَدِينِ إِذَا لَمْ يُرِدِ الْوَفَاءَ أَوْ تَهَاوَنَ فِيْهِ وَعَدْمِ صَلَاةِ الْفَاضِلِ عَلَى مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ باب: ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ حَيْثُ تُوضَعُ الْجَنَائِزُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ قِبَلَ السَّمَاءِ فَنَظَرَ ثُمَّ طَأْطَأَ بَصَرَهُ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ ثُمَّ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا ذَا أُنْزِلَ مِنَ التَّشْدِيدِ قَالَ فَسَكَتْنَا يَوْمَنَا وَلَيْلَتَنَا فَلَمْ نَرَ إِلَّا خَيْرًا حَتَّى أَصْبَحْنَا قَالَ مُحَمَّدٌ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا التَّشْدِيدُ الَّذِي نَزَلَ قَالَ فِي الدَّيْنِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ۔ سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مسجد کے صحن میں اس مقام پر بیٹھے ہوئے تھے، جہاں جنازے رکھے جاتے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمارے درمیان تشریف فرماتھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اچانک اپنی نگاہ کو آسمان کی جانب اٹھاکر دیکھا، پھر اپنی نظر جھکا لی اور اپنا دست مبارک اپنی پیشانی پر رکھا اور فرمایا: سبحان اللہ ! سبحان اللہ !کتنی سختی نازل ہو رہی ہے۔ ہم ایک دن رات تک تو خاموش رہے، جبکہ ہم نے خیر ہی پائی، اگلے دن جب صبح ہوئی تو سیدنا محمد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ نازل ہونے والی سختی کون سی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قرض کے بارے تھی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے!اگر کوئی اللہ کی راہ میں قتل ہوجائے، پھر زندہ ہو، پھر اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے، پھر زندہ ہو، پھر قتل ہو، پھر زندہ ہو اور اس پر قرض ہو، تو وہ جب تک قرض ادا نہیں کرے گا، اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔