حدیث نمبر: 6023
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَخَذَ مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّاهَا اللَّهُ عَنْهُ وَمَنْ أَخَذَهَا يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو عمانی یا قطری کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے، میں نے کہا کہ یہ دو کپڑے تو موٹے ہیں، جب آپ کو ان میں پسینہ آتا ہے تو یہ وزنی ہوجاتے ہیں، فلاں تاجر کے ہاں ایک قسم کے کپڑے آئے ہیں، اگر آپ اس کی طرف پیغام بھیج دیں کہ وہ آسانی تک دو کپڑے آپ کو فروخت کردے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پیغام بھیجا تو اس نے کہا: میں جانتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کیا چاہتا ہے، وہ میرے کپڑے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، یعنی وہ اس کے عوض میں میرے درہم ادا نہیں کرے گا، جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا وہ جھوٹ بول رہا ہے، یہ لوگ جانتے ہیں کہ میں ان سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والا، سب سے زیادہ سچا اور سب سے زیادہ امانت کو ادا کرنے والا ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے ہمیںیہ سبق بھی حاصل ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات پر کیے گئے اعتراضات کا جواب کیسے دیتے تھے، اس معاملے میں انسان کو انتہائی فہیم اور حکیم ہونا چاہیے،یہ کوئی قانون وضابطہ نہیں ہے کہ ہر اعتراض کے جواب میں لڑائی کی جائے، یا اعتراض پر اعتراض کر دیا جائے، یا کسی قسم کی بے صبری کا مظاہرہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلم كتاب القرض والدين / حدیث: 6023
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2387، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8718»