الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَنْ سَمَّاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيَّرَ أَسْمَاءَهُمْ لِمَصْلَحَةٍ باب: وہ افراد جن کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
حدیث نمبر: 4768
عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَدِّهِ جَدِّ سَعِيدٍ مَا اسْمُكَ قَالَ حَزْنٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ فَقَالَ لَا أُغَيِّرُ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ فَمَا زَالَتْ فِينَا حُزُونَةٌ بَعْدُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابن مسیب اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے دادے سے فرمایا: تیرا نام کیا ہے؟ انھوں نے کہا: حزن، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تو سہل ہے۔ اس نے کہا: لیکن میرے باپ نے میرا جو نام رکھا ہے، میں اس کو تبدیل نہیں کروں گا، ابن مسیب نے کہا: پس ہمیشہ ہمارے خاندان میں سختی اور اکھڑ مزاجی رہی۔
وضاحت:
فوائد: … حَزْن کا معنی سخت اور اکھڑ مزاج کا ہے اور جبکہ سَھْل کا معنی نرم اور آسان ہے۔