حدیث نمبر: 4700
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ عَنْ أُمِّهِ وَجَدَّتِهِ أُمِّ عَطَاءٍ قَالَتَا وَاللَّهِ لَكَأَنَّنَا نَنْظُرُ إِلَى الزُّبَيْرِ ابْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ أَتَانَا عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ فَقَالَ يَا أُمَّ عَطَاءٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ نُسُكِهِمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ قَالَتْ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ فَكَيْفَ نَصْنَعُ بِمَا أُهْدِيَ لَنَا فَقَالَ أَمَّا مَا أُهْدِيَ لَكُنَّ فَشَأْنَكُنَّ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبد اللہ بن عطاء اپنے ماں اور دادی ام عطاء سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: گویا کہ اب بھی ہم سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہی ہیں، جب وہ سفید خچر پر ہمارے پاس آئے اور کہا: اے ام عطائ! بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو اس چیز سے منع فرمایا کہ وہ تین دنوں کے بعد تک اپنی قربانیوں کا گوشت کھائیں، انھوں نے کہا: میرا باپ تجھ پر قربان ہو، جو گوشت ہم کو بطورِ ہدیہ دیا جاتا ہے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ انھوں نے کہا: جو تم لوگوں کو بطورِ تحفہ دیا جائے اس کو تم جیسے چاہو استعمال کر سکتے ہو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4700
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الله بن عطا، قال ابن معين: لا شيئ، وقال ابو حاتم: شيخ، وذكره ابن حبان في الثقات أخرجه ابويعلي: 671، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1422»