الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثٍ وَنَسْخِ ذَلِكَ باب: تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ عَنْ أُمِّهِ وَجَدَّتِهِ أُمِّ عَطَاءٍ قَالَتَا وَاللَّهِ لَكَأَنَّنَا نَنْظُرُ إِلَى الزُّبَيْرِ ابْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ أَتَانَا عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ فَقَالَ يَا أُمَّ عَطَاءٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ نُسُكِهِمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ قَالَتْ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ فَكَيْفَ نَصْنَعُ بِمَا أُهْدِيَ لَنَا فَقَالَ أَمَّا مَا أُهْدِيَ لَكُنَّ فَشَأْنَكُنَّ بِهِ۔ عبد اللہ بن عطاء اپنے ماں اور دادی ام عطاء سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: گویا کہ اب بھی ہم سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہی ہیں، جب وہ سفید خچر پر ہمارے پاس آئے اور کہا: اے ام عطائ! بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو اس چیز سے منع فرمایا کہ وہ تین دنوں کے بعد تک اپنی قربانیوں کا گوشت کھائیں، انھوں نے کہا: میرا باپ تجھ پر قربان ہو، جو گوشت ہم کو بطورِ ہدیہ دیا جاتا ہے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ انھوں نے کہا: جو تم لوگوں کو بطورِ تحفہ دیا جائے اس کو تم جیسے چاہو استعمال کر سکتے ہو۔