الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ عَدَمِ جَوَازِ إِبْدَالِ الْهَدْيِ الْمُعَيَّنِ فَإِنْ لَمْ يُوجَدْ وَكَانَ مِنَ الْإِبِلِ يُبَدَّلُ بِسَبْعِ شِيَاهٍ باب: ہدی کے معیّن جانور کو تبدیل نہ کرنا، اگر وہ نہ پایا جائے، جبکہ وہ اونٹ ہو تو اس کے متبادل سات بکریاں ہوں گی
حدیث نمبر: 4614
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَهْدَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بُخْتِيَّةً أُعْطِيَ بِهَا ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهْدَيْتُ بُخْتِيَّةً لِي أُعْطِيتُ بِهَا ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ فَأَنْحَرُهَا أَوْ أَشْتَرِي بِثَمَنِهَا بُدْنًا قَالَ لَا وَلَكِنِ انْحَرْهَا إِيَّاهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خراسانی اونٹ بطورِ ہدی بھیجا، لیکن جب ان کو تین سو دینار کی قیمت کی پیشکش کی گئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنا ایک خراسانی اونٹ بطورِ ہدی بھیجا ہے اور اب مجھے اس کی قیمت میں تین سو دینار دیئے جا رہے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا میں اسی کو نحر کروں یا اس کی قیمت کا کوئی اور اونٹ خرید لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اسی کو نحر کر۔