الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى باب: یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
حدیث نمبر: 4554
عَنِ الْهِرْمَاسِ بْنِ زِيَادٍ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي مُرْدِفِي خَلْفَهُ عَلَى حِمَارٍ وَأَنَا صَغِيرٌ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِمِنَى عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ہرماس بن زیاد باھلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں چھوٹا تھا اور مجھے میرے والد نے اپنے پیچھے گدھے پر سوار کیا ہوا تھا، اس وقت میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منی میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عضباء نامی اونٹنی پر سوار تھے۔
وضاحت:
فوائد: … عضباء اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس کے کان کٹے ہوئے ہوں۔ عضبا، کا اصل معنی تو فوائد میں ذکر ہوا ہے، البتہ اس میں اختلاف ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کے کان کیے ہوئے تھے۔ یعنی وہ اسم بامسمیٰ تھییا اس کا صرف نام یہ تھا، حقیقت میں وہ ایسی نہیں تھی۔ دوسری رائے زیادہ مشہور ہے۔ دیکھیں، نہایہ فی غریب الحدیث: ۲۵۱۔ (عبداللہ رفیق)