الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَقْدِيمِ وَقْتِ الدَّفْعِ لِلضَّعَفَةِ مِنَ النِّسَاءِ وَغَيْرِهِنَّ قَبْلَ الزِّحَامِ باب: اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
حدیث نمبر: 4495
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِضَعَفَةِ النَّاسِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کمزور لوگوں کو اجازت دی تھی کہ وہ رات کو ہی مزدلفہ سے چلے جائیں۔
وضاحت:
فوائد: … حجاج کرام طلوع آفتاب سے کچھ دیر پہلے مزدلفہ سے روانہ ہوتے ہیں، لیکن معذور لوگوں کو رات کو جانے کی اجازت ہے، تاکہ وہ ہجوم کی تکلیف سے بچ جائیں۔ لیکن اس بات پر اہل علم کا اجماع ہے کہ یہ معذور افراد رات کے ابتدائی حصے میں نہیں جا سکتے۔ اس باب کی پہلی حدیث میں جو قانون بیان کیا گیا ہے، اس پر عمل کرنا چاہے، یعنی جب ایک تہائی رات باقی رہ جائے تو اس وقت معذور لوگوں کو مزدلفہ سے جانا چاہیے۔