الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ الْوُقُوفِ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَآدَابِهِ وَوَقْتِ الدَّفْعِ مِنْهُ إِلَى مِنَى) وَسَبَبِ باب: مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 4481
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ عَلَى ثَبِيرٍ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: أَشْرِقْ ثَبِيرُ كَيْمَا نُغِيرْ، يَعْنِي فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مشرکین اس وقت تک مزدلفہ سے روانہ نہیں ہوتے تھے، جب تک سورج ثبیر پہاڑ سے طلوع نہ ہوجاتا تھا۔ عبدالرزاق نے کہا کہ وہ کہا کرتے تھے: اے ثبیر! سورج کو طلوع کر کے زمین کو روشنی کر تاکہ ہم منیٰ میں جاکر قربانیاں کریں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے روانہ ہو گئے۔
وضاحت:
فوائد: … ثبیر معروف پہاڑ ہے، بلکہ مکہ مکرمہ کا سب سے بڑا پہاڑ ہے، ہذیل قبیلے کے ثبیر نامی آدمی کو اس پہاڑ میں دفن کیا گیا تھا، اس وجہ سے اس کا نام ثبیر پڑ گیا۔مِنی کی طرف جاتے ہوئے بائیں طرف یہ پہاڑ پڑتا ہے۔