الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ وَقْتِ الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى مُزْدَلِفَةَ وَالنُّزُولِ بَيْنَ عَرَفَةَ وَجَمْعٍ باب: عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
حدیث نمبر: 4462
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَبَلَغْنَا الشِّعْبَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَكِبْنَا حَتَّى جِئْنَا الْمُزْدَلِفَةَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے تو میں آپ کے ہمراہ تھا، جب ہم گھاٹی میں پہنچے تو آپ نے وہاں اتر کر پیشاب کیا اور وضو کیا اس کے بعد ہم پھر سوار ہو کر چل پڑے اور مزدلفہ پہنچ گئے۔
وضاحت:
فوائد: … عرفہ سے مزدلفہ تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ردیف سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ اور مزدلفہ سے مِنٰی تک سیدنا فضل رضی اللہ عنہ تھے، یہ ممکن ہے کہ ’’ہم پھر سوار ہوئے‘‘ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مراد ان کی اپنی ذات نہ ہو۔ان احادیث سے درج ذیل احکام ثابت ہوئے: غروب آفتاب کے بعد عرفات سے روانہ ہونا چاہیے۔ سکون اور وقار کے ساتھ چلنا چاہیے، جلد بازی اور کسی کو تکلیف دینے سے باز رہنا چاہیے، اگر کوئی کھلی جگہ مل جائے تو قدرے تیزی سے چل لینا چاہیے۔ مزدلفہ پہنچنے تک سفر کو جاری رکھنا چاہیے اور کسی عذر کے بغیر نہیں رکنا چاہیے۔نمازِ مغرب راستے میں ادا نہ کی جائے، بلکہ مزدلفہ پہنچ کر نمازِ عشاء کے ساتھ پڑھی جائے۔ ذکر و تلبیہ والا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔