حدیث نمبر: 4377
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَيُصِيبُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ قَالَ: أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ تَلَى: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عمرو بن دینا رسے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا کہ کیا کوئی آدمی صفا مروہ کی سعی کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرسکتا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا، بعد ازاں دو رکعت نماز ادا کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی کی۔ پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت کی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْـوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔} (تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل میں بہترین نمونہ ہے۔)

وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: عمرو بن دینار کہتے ہیں: ہم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جو عمرہ ادا کرنے کے آتا ہے اور بیت اللہ کا طواف کر لیتا ہے، تو کیا وہ صفا مروہ کی سعی کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے ہم بستری کر سکتا ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے جواب کا لب لباب یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف اور سعی کر لینے کے بعد عمرہ سے حلال ہوئے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے حلال ہونے سے پہلے حق زوجیت ادا نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4377
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 395، 396، 1623، 1624، ومسلم: 1234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14368»