الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي طَوَافِ الْمُتَمَتِّعِ وَهُوَ الَّذِي أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَقَطْ باب: حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَيُصِيبُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ قَالَ: أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ تَلَى: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}۔ عمرو بن دینا رسے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا کہ کیا کوئی آدمی صفا مروہ کی سعی کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرسکتا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا، بعد ازاں دو رکعت نماز ادا کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی کی۔ پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت کی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْـوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔} (تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل میں بہترین نمونہ ہے۔)