حدیث نمبر: 4005
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ فَانْقَلَبْتُ، فَقَامَ مَعِيَ يَقْلِبُنِي وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عَلَى رِسْلِكُمَا، إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ))، فَقَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: ((إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَرًّا، أَوْ قَالَ: شَيْئًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ زوجۂ رسول سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف میں تھے، میں رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات کے لیے آئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے باتیں کیں، پھر جب میں اٹھ کر واپس جانے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے واپس پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے،ان کی رہائش گاہ اس مقام میں تھی، جو بعد میں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا گھر بن گیا تھا، اتنے میں دو انصاری آدمیوں کا وہاں سے گزر ہوا، جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ جلدی سے گزرنے لگے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ٹھہر جاؤ (اور پہلے والی چال ہی چلو)،یہ خاتون میری اہلیہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا ہے۔ انہوں نے کہا: سبحان اللہ، (بڑا تعجب ہے) اے اللہ کے رسول! (اس وضاحت کی کیا ضرورت ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسانی جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے، اس لیے مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے دلوں میں کوئی برا خیال ڈال دے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے ایک انتہائی اہم بات یہ بھی ثابت ہوتی ہے کہ بندے کو تہمت گاہوں سے بچنا چاہیے، دیکھیںنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ وضاحت کر رہے ہیں کہ جو خاتون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑی ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجۂ محترمہ ہے اور ساتھ ساتھ اس کی وجہ بھی بیان کر دی کہ ہو سکتا ہے کہ شیطان لوگوں کے دلوں میں کوئی برا خیال ڈال دے اور جس کا خمیازہ بھگتنے کے لیے ’’لمحوں نے خطا کی، صدیوں نے سزا پائی‘‘ کا مصداق بننا پڑے۔
ان احادیث سے معتکف کے لیے درج ذیل احکام ثابت ہوتے ہیں: اعتکاف کے دوران سر کو دھونا اور کنگھی کرنا جائز ہے، یہ خدمت بیوی سے بھی لی جا سکتی ہے، بول و براز کے لیے مسجد سے نکلا جائے گا، آخری حدیث، حدیث نمبر (۳۹۹۲) اور دیگر احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر خیر والی بات کی جا سکتی ہے، اتفاقاً کسی مریض کا حال پوچھ لینا اور تہمت سے بچنے کے لیے بات کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے، میاں بیوی بھی خیر و بھلائی والی باتیں کر سکتے ہیں، ہر اس ضرورت کے لیے مسجد سے نکلا جا سکتا ہے، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو، مثلا: جمعہ پڑھنے کے لیے جانا، قے اور خون وغیرہ آ جانا، ضروری دوا لینا، اگر کھانے پینے کی ضروری چیزیں لانے کی صورت میں تعاون کرنے والا کوئی آدمی نہ ہو تو اس مقصد کے لیے مسجد سے نکلنا، احتلام ہو جانے کی صورت میں غسل کے لیے جانا۔ اگر آسانی کے ساتھ معالج کا مسجد میں آنا ممکن ہو تو یہی صورت اختیار کی جائے۔ معتکف کا سپیشل تیمار داری کے لیےیا جنازہ پڑھنے کے لیے جانا اس سے متعلقہ ضروریات میں سے نہیں ہے، اگر نماز جنازہ مسجد میں پڑھی جائے یا اتفاقا کسی مریض سے ملاقات ہو جائے تو یہ نماز بھی پڑھنی چاہیے اور رمریض کا حال بھی پوچھ لینا چاہیے۔ مزید اگر کوئی ضرورت پڑے تو معتکف حضرات کو اہل علم سے رابطہ کرنا چاہیے۔
عصرِ حاضر میں معتکف لوگوں میں پانچ ایسی بڑی مفسدیں پائی جا رہی ہیں کہ جن کی وجہ سے وہ اعتکاف کی روح اور غر ض و غایت سے مکمل طور پر محروم نظر آتے ہیں: (۱) جائے اعتکاف میں ٹھہرنے کا اہتمام نہ کرنا
(۲) ایک ایک خیمے میں ایک سے زائد لوگوں کا گھس جانا
(۳) خوب باتیں کرنا، جن کی وجہ سے مسجد کا تقدس بھی پامال ہوتا ہے اور دوسرے نمازی لوگ بھی بری طرح متأثر ہوتے ہیں۔
(۴) اعتکاف کے اختتام پر پھولوں کے ہار ڈالنا، مبارکباد، ملاقات اور استقبال کے لمبے چوڑے سلسلے قائم کرنا۔
(۵)غسل، مسواک، ٹوتھ برش، وضو اور برتن وغیرہ دھونے کے بہانے کافی سارا وقت مسجد کی حدود سے باہر صرف کرنا۔
اعتکاف کے بارے میں ایک اور حدیث: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سنت یہ ہے کہ معتکف مریض کی تیمارداری نہ کرے، جنازے کے لیے نہ جائے، بیوی کو نہ چھوئے اور نہ اس سے مباشرت کرے اور صرف اس ضرورت کے لیے مسجد سے نکلے، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو، اور اعتکاف صرف روزے کے ساتھ ہوتا ہے اور صرف جامع مسجد میں ہوتا ہے۔(ابوداود: ۲۴۷۳، لیکنیہ روایت امام زہری کے مدلس ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 4005
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 3281، ومسلم: 2175، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27400»