الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا يَجُوزُ فِعْلُهُ لِلْمُعْتَكِفِ وَمَا لَا يَجُوزُ لَهُ باب: معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
حدیث نمبر: 4004
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزَّبِيرِ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: وَإِنْ كُنْتُ لَأَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ، وَالْمَرِيضُ فِيهِ فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلَّا وَأَنَا مَارَّةٌ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ، قَالَ يُونُسُ: إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب میں اعتکاف کے دوران بوجۂ ضرورت گھر جاتی اور وہاں کوئی مریض ہوتا تو میں چلتے چلتے ہی اس کا حال دریافت کر لیتی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف کی حالت میں اپنا سر میری طرف کرتے اور میں کنگھی کر دیا کرتی اور ایسی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف انسانی ضرورت کی خاطر گھر تشریف لاتے تھے۔