الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ النَّهْيِ عَنْ أَفْرَادِ يَوْمَيِ الْجُمُعَةِ وَالسَّبْتِ بِالصِّيَامِ باب: صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 3879
عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْعَرْجِ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَغَدَّى وَذَلِكَ يَوْمَ السَّبْتِ، فَقَالَ: ((تَعَالَيْ فَكُلِي))، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ لَهَا: ((صُمْتِ أَمْسِ؟)) فَقَالَتْ: لَا، قَالَ: ((فَكُلِي فَإِنَّ صِيَامَ يَوْمِ السَّبْتِ لَيْسَ لَكِ وَلَا عَلَيْكِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبید اعرج کہتے ہیں: مجھے میری دادی نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کھانا کھا رہے تھے، یہ ہفتہ کا دن تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: آؤ کھانا کھاؤ۔ لیکن انہوں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کھا لو، کیونکہ ہفتہ کے دن کے روزہ کا نہ ثواب ملتا ہے اور نہ گناہ ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ثواب اور گناہ کا نہ ملنا اس صورت میں ہے، جب آدمی جہالت کی وجہ سے روزہ رکھ لے، وگرنہ اگر علم ہونے کے بعد یا بطورِ تعظیم ہفتہ کا روزہ رکھے گا تو گنہگار ہو گا۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ صرف ہفتہ کا روزہ رکھناممنوع ہے، لیکن حدیث نمبر (۳۸۶۹) اور (۳۸۷۳) وغیرہ سے معلوم ہوا کہ جمعہ اور ہفتہ، دو دنوں کا لگاتار روزہ رکھا جا سکتا ہے، اس رخصت سے یہ استدلال کرنا بھی ممکن ہے کہ ہفتہ اور اتوار کا لگاتار روزہ رکھنا جائز ہے، حدیث نمبر (۳۹۶۸) سے بھییہی مسئلہ ثابت ہوتا ہے اور یہ بات ایسے ہی ہے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم عاشوراء کے ساتھ(۹) محرم کا روزہ رکھنے کا بھی عزم کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد یہودیوں کی مخالفت کرنا تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آئندہ سال نو محرم کا روزہ رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا نہ کہ دس کے ساتھ نو محرم کا بھی۔ اس کی مزید وضاحت عاشورا کے روزے کے بارے مستقل عنوان کے تحت آرہی ہے۔ اسے ملاحظہ فرمائیں۔ (عبداللہ رفیق)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آئندہ سال نو محرم کا روزہ رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا نہ کہ دس کے ساتھ نو محرم کا بھی۔ اس کی مزید وضاحت عاشورا کے روزے کے بارے مستقل عنوان کے تحت آرہی ہے۔ اسے ملاحظہ فرمائیں۔ (عبداللہ رفیق)