حدیث نمبر: 3850
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَلَيْسَ بِالْأَنْصَارِيِّ) قَالَ: أَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلٍ لِجَارِي أُخِذَتْ) فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ: ((ادْنُ فَكُلْ))، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: ((اجْلِسْ أُحَدِّثْكَ عَنِ الصَّوْمِ أَوِ الصِّيَامِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ وَعَنِ الْمُسَافِرِ وَالْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ أَوِ الصِّيَامَ))، وَاللَّهِ! لَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كِلَاهُمَا أَوْ أَحَدَهُمَا، فَيَا لَهْفَ نَفْسِي، هَلَّا كُنْتُ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ بنو عبداللہ بن کعب کے ایک آدمی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، جو کہ انصاری نہیں ہیں، کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھڑ سواروں نے ہمارے قبیلے پر چڑھائی کر دی، ایک روایت میں ہے: میرے ہمسائے کا اونٹ لوٹ لیا گیا تھا، میں اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: قریب آجاؤ اور کھانا کھاؤ۔ میں نے عرض کیا: میں تو روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز کی اور مسافر، حاملہ اور دودھ پلانے والی کو روزوں کی رخصت دی ہے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاملہ اور مرضعہ دونوں کا یا کسی ایک کا ذکر کیا تھا، ہائے افسوس! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھانا کیوں نہیں کھایا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے راوی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، وہ انس بن مالک نہیں ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم تھے اور عام روایات میں جن کا نام آتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3850
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ اخرجه الترمذي: 715، وابن ماجه: 1667، 3299، والنسائي: 5/190 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19047 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19256»