حدیث نمبر: 3818
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا تُوَاصِلُوا، فَأَيُّكُمْ أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى السَّحَرِ))، فَقَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: ((إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ، لِي مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِينِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم وصال نہ کرو اور جو آدمی ایسا کرنا ہی چاہے تو وہ سحری تک وصال کر لیا کرے۔ صحابہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود تو وصال کر لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ مجھے ایک کھلانے والا کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا پلاتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل حدیث، جو پہلے گزر چکی ہے، بھی قابل توجہ ہے: ایک صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: إِنَّمَا نَہَی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنِ الْوِصَالِ فِی الصِّیَامِ وَالْحِجَامَۃِ لِلصَّائِمِ إِبْقَائً عَلٰی اَصْحَابِہِ وَلَمْ یُحَرِّمْہُمَا (وَفِی لَفْظٍ:) وَلَمْ یُحَرِّمْہُمَا عَلَی اَحَدٍ مِنْ اَصْحَابِہِ۔
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ پر شفقت کرتے ہوئے انہیں روزے میں وصال کرنے اور روزہ دار کو سینگی لگوانے سے منع تو فرمایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کاموں کو حرام نہیں کیا۔ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کاموں کو اپنے کسی صحابی پر حرام نہیں فرمایا۔ (ابوداود: ۲۳۷۴، ملاحظہ ہو: حدیث نمبر ۳۷۵۶) مذکورہ بالا تین ابواب کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اصل پسند اور رغبت یہ ہے کہ لوگ وصال نہ کریں، اگر کوئی وصال کرنا چاہے تو وہ حدیث نمبر (۳۸۱۸) کی روشنی میں سحری تک وصال کر لے، اس سے زیادہ وصال کرنے کی گنجائش تو مل سکتی ہے، لیکن کرنا نہیں چاہیے۔ ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ وصال کے معاملے میں صحابۂ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کی فوراً تعمیل کیوں نہیں کی، جبکہ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اشاروں پر جان تک نچھاور کر دینے والے تھے؟ جواب یہ ہے کہ اس قسم کے مقامات پر صحابہ کرام یہ سمجھتے تھے کہ اصل حکم وصال کا ہی ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمل کرتے تھے، لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن کے حق میں تخفیف، نرمی اور عدم مشقت کو پسند کرتے تھے، لیکن صحابہ کرام کا نظریہیہ تھا کہ وہ بھی اجر و ثواب کے حصول کے لیے مشکل سے مشکل امور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کریں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اورصحابہ کے مابین فرق کی وضاحت کر کے مسئلہ کو واضح کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3818
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1963، 1967، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11070»