الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
(الْفَصْلُ الثَّانِي فِي مُوَاصَلَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَيْنِ وَلَيْلَتَيْنِ حِينَ أَبَوْا أَنْ باب: صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُوسَى، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْوِصَالِ فَقَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا رَأَوُا الْهِلَالَ أَخْبَرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((لَوْ زَادَ لَزِدْتُ))، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ تَفْعَلُ ذَلِكَ أَوْ شَيْئًا نَحْوَهُ، قَالَ: ((إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي))۔ عبداللہ بن ابی موسیٰ کہتے ہیں:میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے وصال کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: احد کے دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ نے وصال کیا تھا،لیکن ان کو اس سے مشقت ہوئی،جب چاند نظر آیا تو تب صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مہینہ مزید لمبا ہوتا تو میں بھی وصال کو لمبا کر دیتا۔ کسی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔