الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ حُكْمِ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا وَهُوَ صَائِمٌ باب: جنابت کی حالت میں صبح کرنے والے، جبکہ وہ روزے دار بھی ہو، کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ وَأُمُّ سَلْمَةَ زَوْجَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ مِنْ أَهْلِهِ جُنُبًا فَيَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ الْفَجْرَ ثُمَّ يَصُومُ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: لَا أَدْرِي أَخْبَرَنِي ذَلِكَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ۔ (تیسری سند) وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا دونوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیوی کے ساتھ مجامعت کی وجہ سے جنابت کی حالت میں صبح کرتے، پھر نماز فجر ادا کرنے سے پہلے غسل کرتے اور اس دن کا روزہ بھی رکھتے۔ وہ کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: میرے علم میں تو یہ حدیث نہیں ہے، البتہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے وہ حدیث بیان کی تھی۔
پیچھے حدیث گزر گئی ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فتویٰ دیا تھا کہ جو آدمی جنبی حالت میں صبح کرے وہ روزہ نہ رکھے اور یہ بات ان کو فضل بن عباس نے بیان کی تھییہی بات ادھر مراد ہے۔ یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث
ملنے پر اپنے پہلے موقف سے رجوع کر لیا تھا۔ (عبداللہ رفیق)