الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقَيْءِ لِلصَّائِمِ باب: روزہ دار کو قے آجانے کا بیان
حدیث نمبر: 3766
عَنْ أَبِي الْجُودِيِّ عَنْ بَلْجٍ عَنْ أَبِي شَيْبَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ وَكَانَ قَاصُّ النَّاسِ بِقُسْطَنْطِينِيَّةَ، قَالَ: قِيلَ لِثَوْبَانَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو شیبہ مہری، جوقسطنطینیہ میں لوگوں کے واعظ (معتبر قصہ گو) تھے، کہتے ہیں: کسی نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کریں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قے کی اور اس طرح روزہ افطار کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … جن روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قے مطلق طور پر روزے کو توڑ دیتی ہے، ان کو حدیث نمبر (۳۷۶۴)کی روشنی میں سمجھیں گے، یعنی اگر کوئی آدمی جان بوجھ کر قے کر دیتا ہے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور وہ قضائی دے گا، لیکن جس آدمی پر قے غالب آ جائے تو اس کا روزہ سالم رہے گا۔