الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ فَضْلِ السَّحُورِ وَالْأَمْرِ بِهِ باب: سحری کی فضیلت اور اس کا حکم
حدیث نمبر: 3727
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((السَّحُورُ أَكْلَةٌ بَرَكَةٌ فَلَا تَدَعُوهُ وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جَرْعَةً مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سحری کا کھانا بابرکت ہے، اس لیے اس کو نہ چھوڑا کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ اور فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت کرتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے رحمت کے نزول کی دعا کرتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عجیب بات ہے کہ بندہ کھانا کھا رہا ہے اور اس کھانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس پر رحمت بھیج رہا ہے اور فرشتے اس پر نزولِ رحمت کی دعا کر رہے ہیں، دراصل یہ روزے کی برکات ہیں اور روزے سے متعلقہ ہر چیز میں برکت آ جاتی ہے۔