الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ فَضْلِ تَعْجِيلِ الْفِطْرِ وَمَا يُسْتَحَبُّ الْإِفْطَارُ بِهِ باب: روزہ جلدی افطار کرنے کی فضیلت اور اس امر کا بیان کہ کس چیز سے افطاری کرنا پسندیدہ ہے
حدیث نمبر: 3717
عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّهُ طَهُورٌ (وَفِي لَفْظٍ:) فَإِنَّهُ لَهُ طَهُورٌ (وَفِي لَفْظٍ آخَرَ) فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی روزہ افطار کرے تو وہ کھجور کے ساتھ افطاری کرے، اگر کھجور دستیاب نہ ہو تو پانی سے افطاری کر لے، بیشک یہ خوب پاک کرنے والا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ ترتیب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فعلی سنت سے ثابت ہے: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کَانَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُفْطِرُ عَلٰی رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَن یُّصَلِّیَ، فَإِن لَّمْ یَکُنْ رُطَبَاتٌ فَعَلٰی تَمَرَاتٍ فَإِن لَّمْ یَکُنْ حَسَا حَسَوَاتٍ مِّنْ مَائٍ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے سے پہلے تازہ کھجوروں کے ساتھ روزہ افطار کرتے تھے، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں کے ساتھ اور اگر وہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔ (سنن اربعہ، صحیحہ: ۲۸۴۰)