الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ فَضْلِ تَعْجِيلِ الْفِطْرِ وَمَا يُسْتَحَبُّ الْإِفْطَارُ بِهِ باب: روزہ جلدی افطار کرنے کی فضیلت اور اس امر کا بیان کہ کس چیز سے افطاری کرنا پسندیدہ ہے
حدیث نمبر: 3716
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ أَحْيَانًا يَبْعَثُهُ وَهُوَ صَائِمٌ فَيُقَدِّمُ لَهُ عَشَاءَهُ وَقَدْ نُودِيَ بِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ تُقَامُ وَهُوَ يَسْمَعُ فَلَا يَتْرُكُ عَشَاءَهُ وَلَا يَعْجَلُ حَتَّى يَقْضِيَ عَشَاءَهُ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي، قَالَ: وَقَدْ كَانَ يَقُولُ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ إِذَا قُدِّمَ إِلَيْكُمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ امام نافع کہتے ہیں: بسا اوقات ایسے ہوتا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روزہ سے ہوتے اور وہ مجھے کھانا لانے کے لیے بھیجتے، مغرب کی اذان اور پھر اقامت بھی ہو جاتی اور وہ سن رہے ہوتے مگر نہ کھانا چھوڑتے تھے اور نہ جلدی کرتے تھے، اطمینان سے کھانا کھانے کے بعد جا کر مغرب کی نماز ادا کرتے، اور وہ کہتے تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: جب شام کا کھانا پیش کر دیا آجائے تو جلدی نہ کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … عہد ِ نبوی میں لوگ شام کا کھانا مغرب سے پہلے کھاتے تھے۔