الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَنْ يَكْتَفِي بِشَهَادَتِهِ بِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ باب: روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ خَطَبَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، فَقَالَ: أَلَا إِنِّي قَدْ جَلَسْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلْتُهُمْ، أَلَا وَإِنَّهُمْ حَدَّثُونِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ وَانْسُكُوا لَهَا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا ثَلَاثِينَ، وَإِنْ شَهِدَ شَاهِدَانِ مُسْلِمَانِ، فَصُومُوا وَأَفْطِرُوا))۔ عبد الرحمن بن زید بن خطاب کہتے ہیں: میں نے ایسے دن میں خطبہ دیا کہ جس کے بارے میں یہ شک کیا جا رہا تھا کہ (وہ شعبان کا ہے یا رمضان کا)، میں نے کہا: میں صحابۂ کرام کے ساتھ بیٹھا ہوں اور ان سے سوالات کیے ہیں، انہوں نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزے رکھا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا ترک کیا کرو اور اسی کے حساب سے دوسری عبادات ادا کرو، اگر کسی وجہ سے چاند چھپ جائے، تو تیس دن پورے کر لو اور اگر دو مسلمان چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کی گواہی دے دیں تو اس بنیاد پر روزہ رکھنا شروع کر دو اور ترک کردو۔