حدیث نمبر: 3671
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَظَلَّكُمْ شَهْرُكُمْ هَذَا بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مَرَّ بِالْمُؤْمِنِينَ شَهْرٌ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْهُ وَلَا بِالْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ شَرٌّ لَهُمْ مِنْهُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَكْتُبُ أَجْرَهُ وَنَوَافِلَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُدْخِلَهُ، وَيَكْتُبُ إِصْرَهُ وَشَقَاءَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُدْخِلَهُ وَذَكَ أَنَّ الْمُؤْمِنَ يُعِدُّ فِيهِ الْقُوَّةَ لِلْعِبَادَةِ مِنَ النَّفَقَةِ، وَيُعِدُّ الْمُنَافِقُ ابْتِغَاءَ غَفَلَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَعَوْرَاتِهِمْ، فَهُوَ غَنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ، يَغْتَنِمُهُ الْفَاجِرُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رسول اللہ کی قسم اٹھائی ہوئی چیز کی قسم! تمہارے اوپر یہ مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے، اہل ایمان کے لئے اس سے بہتر کوئی مہینہ نہیں اور اہل نفاق کے لئے اس سے زیادہ برا کوئی مہینہ نہیں، اللہ تعالیٰ اس مہینہ کی آمد سے پہلے ہی اس کا اور اس کے نوافل کا ثواب بھی لکھ دیتا ہے اور اس کے گناہ، سزا اور بدبختی بھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن اس میں عبادت کرنے کے لیے نفقہ کی قوت تیار کرتا ہے اور منافق لوگوں کی غفلت اور عیوب تلاش کرتا رہتاہے، اس طرح یہ ماہ مومن کے لئے بھی غنیمت ہے اور فاجر کے لیے بھی غنیمت ہے۔

وضاحت:
فوائد: … مؤمن کی روٹینیہ ہوتی ہے کہ وہ ماہِ رمضان میں ضرورت پڑنے والے اسبابِ معیشت کا پہلے سے ہی انتظام و انصرام کر لیتا ہے، تاکہ ماہِ مبارک کے حقوق کی ادائیگی میں کمی نہ ہو جائے۔مثلا: سحری و افطاری، صدقہ و خیرات، رات کا قیام، اعتکاف اور مزید فرائض و نوافل۔ لیکن مؤمن کی اس ظاہری غفلت سے فائدہ اٹھانے کے لیے منافق بیچارہ اپنے شرّ میں اضافے کے بارے میں سوچتا ہے کہ اہل ایمان کو کس کس انداز میں نقصان پہنچا سکتا ہے یا پریشان کر سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3671
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10793»